Select Menu

Loyal TV

اہم خبریں

clean-5

Comments

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Misc

Technology

ریسکیو 1122 سوات نے جولائی کے مہینے میں مجموعی طور پر 1464 ایمرجنسیز میں عوامی خدمات سر انجام دیئے

 

پریس ریلیز۔۔۔۔۔۔

ریسکیو 1122 سوات/ ماہانا کارکردگی رپورٹ


ریسکیو 1122 سوات نے جولائی کے مہینے میں مجموعی طور پر 1464 ایمرجنسیز میں عوامی خدمات سر انجام دیئے


ریسکیو 1122 سوات نے گزشتہ ماہ دیگر ایمرجنسیز کے ساتھ ساتھ کویڈ۔19 میں بھی فرنٹ لائن پر خدمات سر انجام دیئے جن میں 14 کرونا کے مثبت اور مشتبہ مریضوں کو مکمل ایس او پیز کیساتھ ہسپتالوں اور قرنطینہ سینٹرز منتقل کیے گئے۔

 ریسکیو 1122 سوات کی ترجمان شفیقہ گل کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ریسکیو 1122 سوات نے جولائی کے مہینے میں مجموعی طور پر 1464 مختلف نوعیت کے ایمرجنسیز میں خدمات سر انجام دیئے، سب سے زیادہ خدمات طبی شعبے میں دی گئی جنکی تعداد 1198 ہیں۔

اس کے علاوہ 157 ٹریفک حادثات ، 39 آتشزدگیاں، 16 گولی لگنےکے واقعات، 1) پانی میں ڈوبنے کے واقعات ، 2 عمارتوں کے چھت گرنے کے واقعات ، اور 22 دیگر متفرق واقعات میں بھی خدمات سرانجام دئیے ۔

ریسکیو 1122 سوات نے مجموعی طور پر 1466 افراد کو بچایا جن میں 1261 افراد کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا، 205 افراد کو موقع پر ہی طبی سہولیات فراہم کر دی گئی جبکہ 21 افراد موقع پر ہی مختلف حادثات میں جانبحق ہو گئے تھے۔

اس کے علاوہ ہیلتھ ایمبولینسز میں 575 مریضوں کو ضلع کے اندر ہسپتالوں میں منتقل کیے جبکہ 45 مریضوں کو ضلع سے باہر کے ہسپتالوں میں بھی منتقل کر دیئے گئے۔

حسب معمول ریسکیو 1122 سوات کنٹرول روم شب و روز مصروف رہا اور ضلع بھر سے 32 ہزار 633 کالز موصول ہوئیں جس میں 18 ہزار 376 غلط یا فیک کالز شامل تھیں۔

ترجمان سوات کے مطابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر خطیر احمد کی ہدایت پر اور ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر سوات انجینئر ملک شیر دل خان کے سربراہی میں ریسکیو 1122 سوات 24 گھنٹے ہمہ وقت عوام کی ہر قسم ممکنہ خدمت کے لئے تیار ہے۔

افسران بالا کے ہدایت پر ریسکیو 1122 عوام کی مذید خدمات اور کارکردگی میں بہتری لانے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔

PTI National Body Visit Consulate پی ٹی آئی سعودی عرب کےعہدیداران نےپاکستان قونصل خانہ کادورہ کیا

شہید صدر محمد ابرار خان یوسف زئی کے فرزن منصور ابرار خان پر پارٹی کے حوالے سے خصوصی گفتگو

 


ضلع سوات میں سکول سے محروم بچوں کوسکول میں داخل کرانے کیلئے کمپین کا آغا ز کر دیا گیا جس کا مہمان خصوصی وزیر ہاوسنگ ڈاکٹر امجد علی تھے مزید تفصیلات اعزازالحق کی رپورٹ میں


 

اسرائیلی کمپنی کا جاسوسی سافٹ ویئر ’پیگاسس‘ کیسے کام کرتا ہے؟


 

دنیا بھر میں کئی حکومتوں کو تباہ کن الزامات کا سامنا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی کمپنی کے جاسوسی سافٹ ویئر کو صحافیوں، انسانی اور شہری حقوق کے کارکنان، سیاسی مخالفین، اور کارپوریٹ ایگزیکٹیوز کے فونز کی جاسوسی کے لیے استعمال کیا۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشل اور 17 صحافتی اداروں کے کنسورشیم پیگاسس پراجیکٹ کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ انڈیا سمیت دنیا کے کئی ممالک نے اسرائیلی کمپنی این ایس او کی جاسوسی سافٹ ویئر پیگاسس کے ذریعے لوگوں کے فون ہیک کیے۔
مذکورہ انکشافات سامنے آنے کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر پیگاسس سافٹ ویئر کام کیسے کرتا ہے اور یہ کسی کے فون میں کیسے داخل ہوتا ہے اور جب یہ کسی کے فون میں داخل ہو جائے تو کرتا کیا ہے؟ 
پیگاسس کسی کے فون میں داخل کیسے ہوتا ہے؟
ریسرچرز کا خیال ہے کہ اس سافٹ ویئر کے پرانے ورژن (جس کا انکشاف پہلی مرتبہ 2016 میں ہوا تھا) میں بظاہر بے ضرر سا میسیج  ہدف کے فون میں انسٹال کرنے کے لیے استعمال ہوا تھا۔ 
مذکورہ مسیج کو وصول کرنے والے اسے دیکھنے کے لیے اس پر کلک کرتے اور یہ اس فون میں انسٹال ہو جاتا تھا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب صارفین مشکوک مسیج کے حوالے سے خبردار ہو گئے تو اس کے ذریعے یہ سافٹ ویئر انسٹال کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ 
تاہم پیگاسس کے تازہ ترین ورژن میں موبائل فون میں عام انسٹال کیے جانے والے سافٹ ویئر کے کمزور حصوں کو جاسوسی سافٹ ویئر داخل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔  2019 میں واٹس ایپ نے این ایس او پر مقدمہ کر دیا تھا۔
واٹس ایپ نے الزام لگایا تھا کہ اسرائیلی کمپنی نے واٹس ایپ کے آپریٹنگ سسٹم میں کمزوریوں کو استعمال کرکے 14 سو صارفین کے فون میں جاسوسی سافٹ ویئر انسٹال کیا۔ 
اس میں پیگاسس ٹارگٹ صارف کو واٹس ایپ پر صرف کال کرکے اپنا سافٹ ویئر اس کے فون میں انسٹال کر سکتا ہے۔ فون کا جواب نہ دینے کی صورت میں بھی جاسوسی سافٹ ویئر خود بخود فون میں انسٹال ہو جاتا ہے۔ 
حالیہ رپورٹس میں انکشاف ہوا تھا کہ پیگاسس نے ایپل کمپنی کے میسیجنگ سافٹ ویئر میں کمزوریوں کو جاسوسی سافٹ ویئر فون میں انسٹال کرنے کے لیے استعمال کیا۔ اس طریقہ کار میں پیگاسس کو ایپل فون استعمال کرنے والے ایک ارب صارفین کے فون تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے جس میں فون کے مالکان کو کسی لنگ یا بٹن پر کلک کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ 

فون میں داخل ہونے کے بعد پیگاسس جاسوسی سافٹ ویئر
کیا کرتا ہے؟

برطانیہ کے یونیورسٹی آف سرے میں سائبر سکیورٹی کے پروفیسر الین ووڈ ورڈ کا کہنا ہے پیگاسس اس وقت سب سے بہترین ریموٹ ایکسس ٹول ہے۔ ’یہ ایسا ہے کہ آپ نے اپنا فون کسی اور کے ہاتھ میں دے دیا ہے۔‘
اس سافٹ ویئر کے ذریعے ہدف کے میسجز اور ای میلز چیک کی جا سکتی ہیں۔ فون کو چیک کیا جا سکتا ہے اور ہدف کی فون پر بات چیت کو سنا جاسکتا ہے۔ جاسوسی سافٹ ویئر کے ذریعے نہ صرف ہدف کا لوکیشن معلوم کیا جاسکتا ہے بلکہ ان کے کیمرے کے ذریعے ان کی ویڈیو بھی بنائی جا سکتی ہے۔ 
ووڈ ورڈ کا کہنا ہے کہ پیگاسس خفیہ طریقے سے جاسوسی سافٹ ویئر فون میں انسٹال کرنے میـں روز بہ روز بہتر ہورہا ہے جس کی وجہ سے یہ مشکل تر ہورہا ہے کہ کسی فون کو ٹارگٹ کیا گیا ہے کہ نہیں۔
اس لیے یہ واضح نہیں ہے کہ اب تک اس سافٹ ویئر کے ذریعے کتنے لوگوں کے فونز ہیک کیے گئے ہیں۔ تاہم عالمی میڈیا کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اب تک اس بات کی تصدیق ہوئی کہ 50 ہزار فون نمبرز اسرائیلی کمپنی کے کلائنٹس کے ہدف تھے۔
تاہم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سکیورٹی لیب کا کہنا ہے کہ انہیں ایپل کے آئی فونز پر حالیہ مہینے میں بھی کامیاب جاسوسی حملے کے نشانات ملے ہیں۔ 

این ایس او نے اتنا طاقتور جاسی سافٹ ویئر کیسے بنایا؟

اربوں ڈالرز مالیت کی ٹیکنالوجی کی کمپنیاں بشمول ایپل اور گوگل ہر سال خطر رقم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے خرچ کرتی ہیں کہ ان کا سسٹم ہیکز کا نشانہ نہ بنیں جو ان کے پورے نظام کو بٹھا سکتے ہیں۔
یہ کمپنیاں ہیکرز کو کمپنی کے نظام میں کمزروری کی نشاندہی پر بھاری انعامی رقم بھی ادار کرتے ہیں تاکہ ان کمزوری کو نشانہ بنانے سے پہلے دور کیا جائے۔ 
ووڈورڈ کے مطابق اپیل کمپنی جو اپنے مضبوط سکیورٹی پر فخر کرتی ہے، نے اپنے نظام میں کمزوریوں کی نشاندہی کے لیے بڑی کوششیں کی ہے۔ ’لیکن اس کے باوجود ایسے پیچیدہ سافٹ ویئر میں ایک آدھ کمزوری رہ جاتی ہے۔‘
تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ این ایس او جس کے سٹاف میں اسرائیل فوج کے سابق ایلیٹ ممبرز شامل ہے ڈارک ویب پر گہری نظر رکھتی ہے جہاں ہیکرز ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سسٹم میں پائی جانے والی خرابیوں کے بارے میں معلومات فروخت کرتے ہیں۔  

کیا فون سے جاسوسی سافٹ ویئر کو ہٹانا ممکن ہے؟

چونکہ یہ معلوم کرنا انتہائی مشکل ہے کہ کسی فون میں جاسوسی سافٹ ویئر موجود ہے اس لیے یہ معلوم کرنا بھی اتنا ہی مشکل ہے کہ اس فون سے ہٹا دیا گیا ہے۔ 
الین ووڈ ورڈ کا کہنا ہے کہ پیگاسس فون کے ماڈل کے حساب سے اپنے سافٹ ویئر کو فون کے ہارڈ ویئر یا اس کے میموری میں انسٹال کر سکتی ہے۔
اگر یہ میموری میں محفوظ ہے، تو فون کو ریبوٹ کرنے یعنی اسے بند کر کے دوبارہ آن کرنے سے اس کا صفایا ہو سکتا ہے۔ اسی لیے وہ ان افراد کو ایسا کرنے کی تجویز دیتے ہیں جنہیں اس کا ہدف بننے کا زیادہ خطرہ ہے جیسے کہ کاروباری شخصیات اور سیاستدان۔

گھر پر رہتے ہوئے اپنی ذہنی صحت اور تندرستی کا خیال رکھیں

 

1. اپنے دن کی منصوبہ بندی کریں 

ہم سب ایک نئی بلکہ عجیب و غریب طرز زندگی کی عادت اپنا رہے ہیں۔ یہ ہماری ذہنی تندرستی کے لئے خطرہ ہوسکتی ہے۔ 

چونکہ ممکنہ طور پر سارا دن پاجامے میں ہی رہنا پرکشش ہوسکتا ہے، ہماری شناخت، خود اعتمادی اور مقصد کے لئے روزمرہ کے معمولات ضروری ہوتے ہیں۔ 

اپنے دن کا آغاز تقریباً اسی وقت کرنے کی کوشش کریں جب آپ عام طور پرکیا کرتے ہیں اور ہر دن چہل قدمی کرنے، تفریح کرنے اور سماجی میل جول اور غور و فکر کے لئے ایک وقت مقرر کریں۔

2. ہر روز مزید متحرک رہیں   

متحرک رہنا ذہنی تناؤ کم کرتا ہے، توانائی میں اضافہ کرتا ہے، ہمیں زیادہ چوکس بنا دیتا ہے اور ہمیں بہتر نیند حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے۔  

اپنے دن کے دوران جسمانی نقل و حرکت اور مصروفیات کو شامل کرنے کے مختلف طریقے تلاش کریں اور کچھ ایسے کام  دریافت کریں جو آپ کے لئے بہترین ثابت ہوں۔ 

یہاں تک کہ گھر پر رہتے ہوئے بھی اپنے جسم کو متحرک رکھنے اور ورزش کرنے کے بہت سارے طریقے موجود ہوں گے۔ 

3. تفریح کے لیے کوئی تدبیر آزمائیں 

آرام کرنا اور موجودہ صورتحال پر توجہ دینا آپ کی ذہنی صحت کو بہتر بنانے اور منفی احساسات کو ہلکا کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ 

مراقبہ کرنے اور سانس لینے کی چند ایک مشقیں آزمائیں تاکہ پتا چلے کہ آپ کو کس چیز سے مدد ملتی ہے۔  مثال کے طور پر بعض اوقات ہم اتنے زیادہ تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں کہ ہمیں یاد ہی نہیں رہتا کہ سکون کا احساس کیسا ہوتا ہے۔ جب آپ پر تناؤ کا غلبہ چھا جائے تو پٹھوں کو بتدریج ڈھیلا کرنے کا عمل آپ کو یہ جاننا سکھاتا ہے کہ پرسکون کس طرح ہونا ہے۔  

4. دوسروں کے ساتھ رابطہ رکھیں 

خاص طور پر جب آپ گھر پر اکیلے ہی رہتے ہوں تو آپ کو تنہائی کا احساس ہو سکتا ہے۔  اپنےساتھی کارکنان، دوستوں، کنبے اور دیگر افراد کے ساتھ رابطے میں رہنے کے تخلیقی طریقے تلاش کریں تاکہ آپ (اور وہ) زیادہ مربوط اور حمایت یافتہ محسوس کرسکیں۔ 

آپ رابطے کے وہ طریقے تلاش کریں جو آپ کے کام آ سکتے ہوں خواہ وہ بذریعہ ڈاک، فون، سوشل میڈیا یا بذریعہ ویڈیو گفتگو ہوں۔  یہ عمل ویڈیو پر چائے کا ایک کپ شیئر کرنے سے لیکر ایک ساتھ آن لائن گیم کھیلنے یا محض ایک حوصلہ افزا ٹیکسٹ بھیجنے تک کچھ بھی ہو سکتا ہے۔  

5. غور و فکر کرنے اور خود ترسی کا مظاہرہ کرنے پر وقت صرف کریں۔ 

کیا کچھ اچھا رہا ہے اس پر غور کرنے کے لئے ہرروز وقت صرف کریں۔ اپنی کامیابیوں اور ان چیزوں کی نشاندہی کرنا جن کے لئے آپ شکر گزار ہیں ضروری ہوتا ہے خواہ وہ کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہوں۔ تشکر کا ایک روزنامچہ رکھنے پر غور کریں جس میں آپ ہر رات سونے سے قبل دو یا تین چیزیں لکھ سکتے ہوں۔ 

ذہنی ہوشیاری کی ترکیبیں بھی آپ کو غیر مفید خیالات کے بجائے اپنے حال پر توجہ مرتکز کرنے میں مدد دے سکتی ہیں (حالانکہ یہ زیادہ شدت کے ساتھ افسردگی کا سامنا کرنے والے افراد کے لیے مددگار ثابت نہیں ہوسکتیں)۔ 

6. اپنی نیند کو بہتر کریں 

بے یقینی کا احساس اور روزمرہ  زندگی میں تبدیلیوں کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ آپ کو نیند میں زیادہ دشواری کا سامنا ہے۔  

اپنی نیند کو بہتر بنانے کے لئے آپ بہت کچھ کرسکتے/سکتی ہیں۔ یہاں تک کہ اگر ممکن ہو سکے تو ہفتے کے آخر میں بھی ایک ہی وقت پر بستر پر جانے اور ہر روز ایک ہی وقت پر بیدار ہونا مقصد بنائیں، اور جہاں ممکن ہو سکے سورج کی قدرتی روشنی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ اس سے آپ کی جسمانی گھڑی کو منظم ہونے میں مدد ملتی ہے جو آپ کو بہتر نیند لینے میں مدد دے سکتی ہے۔ 

بستر پر جانے کے وقت سے ایک گھنٹہ قبل اپنے فون، ٹیبلٹ، کمپیوٹر یا ٹی وی کو استعمال کرنا بند کر دیں۔